منگلورو:27/ڈسمبر(ایس او نیوز)نوٹ کالعدمی کی طرح ذات پات اور چھوت چھات والے نظام پر بھی سرجیکل اسٹرائک کیا جائے تو ہی ایک عظیم بھارت کی تعمیرہوگی۔ ان خیالات کااظہار کنڑا زبان کے مشہور ادیب ڈاکٹر اروند مالگتی نے کیا۔
منگلورو میں ابھیمت بلگا کی طرف سے منعقدہ دو روزہ عوامی گفتگو کے اختتامی جلسہ میں وہ اختتامی خطاب کررہے تھے۔ اروند مالگتی نے سنجیدگی سے ملک کو درپیش مسائل کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک کا سرجھکا ہے تو وہ ذات پات کے نظام کی وجہ سے جھکا ہے، چھوت چھات، غذائی روایات ، تہذیب پر حملہ کئے جانے سے ہی ملک بدنام ہورہاہے اور سرجھکا ہے۔ لیکن اس ملک میں جاری ذات پات اور چھوت چھات کے نظام پر سرجیکل اسٹرائک کے لئے ملکی وزیر اعظم آگے نہیں بڑھیں گے۔ ذات کبھی نہیں مرتی ، زمانے کے تقاضوں کے تحت اپنے آپ میں تبدیلی کرتے ہوئے زندہ رہے گی، ذات پات کے نظام کے ازالے کے لئے کئی ایک نے کوششیں کی ہیں، لیکن ابھی تک ذات پات کا نظام زندہ ہے، بلکہ مزید روشن ہوگیا ہے، بین ذات شادی کرنے والوں کو ہی سرکاری ملازمت دینے کا قاعدہ جاری کیا جائے۔ لیکن اس نظام کو نافذکرنے والے سیاست دان ہی دھرم کی پرورش کرنے پر دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم مود ی کے بدلاؤ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ منوسمرتی کو ہی دستور بنانے کی بات کہنے والے مودی ، ملکی دستور ہی ہماری دھرم گرنتھ ، اسی دستورکی وجہ سے میرا وزیراعظم ہونا ممکن ہونے کی بات کہنا بہت بڑی تبدیلی ہے، چلئے ، کم سے کم انہیں اب تو صحیح سمجھ میں آیاہے۔
ریاستی وزیرا علیٰ کے میڈیا صلاح کار دینیش امین مٹو نے جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں گھنٹے گھنٹے میں کپڑے تبدیل کرنے والا، 56انچ سینے کا لیڈر نہیں چاہئے، جس سینے میں انسانیت بھر ی ہو، غریبوں ، کسانوں اور مظلوموں کے لئے دھڑکنے والا دل رکھنے والالیڈر چاہئے۔ انہوں نے بی جے پی پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر بی جے پی واقعی میں ڈاکٹر امبیڈکر کی عزت کرتی ہے تو مرکزی حکومت تمام طرح کی چھوت چھات کا ازالہ کرے۔ نجی میدانوں میں بھی ریزرویشن کو نافذکریں۔ اس سلسلے میں کم سے کم شری نواس پرساد جیسے لوگ ان سے سوال کریں۔ قومی سطح پر ایس پی سی ، ٹی ایس پی قانون جاری کرنا چاہئے۔ مندروں میں غیربرہمنوں کو پجاری کی حیثیت سے نامزد کیا جائے۔ اگر یہ سب نہیں ہورہاہے تو ہم کو مجبوراً متحدہ طورپر کہنا پڑتاہے کہ تم خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اس موقع پر جلسہ میں ریاست میں جن لوگوں کے پاس رہنے کو زمین نہیں ، گھر نہیں انہیں متعینہ وقت میں فراہم کرنے۔ معاشی ، سماجی ، تعلیمی سطح پر جو سروے کیا گیا ہے اس کو ظاہر کرنے ۔ نوٹ کالعدمی کی مذمت میں۔ اقلیتوں کے متعلق ساچار رپورٹ کو نافذ کرنے وغیرہ کے متعلق قرار دادیں منظور کی گئیں۔